آدم کتنے عرصے پہلے آئے؟
اس سوال پر اسلامی دنیا 2 حصوں میں تقسیم ہے۔
- بائیبل کے مطابق آدم 6 سے 7 ہزار سال قبل آئے۔ یہی بات قدیم مسلم علماء بھی کہتے ہیں۔ اور یہی بات بہت سی اسلامی روایات بھی کہتی ہیں (ہارون یحیی نے ایسی 14 روایات جمع کیں)۔ مزید یہ کہ آج کے دور میں سعودی مفتی حضرات کے سب سے بڑے فتوی ویب سائیٹ اسلام سوال جواب بھی یہی کہہ رہا ہے۔ (اسلام سوال جواب نے وہ تمام "صحیح" روایات جمع کیں جو کہ مختلف انبیاء کے درمیان زمانے کے متعلق بتلا رہی ہیں، اور ان کو جمع کرنے کے بعد آدم کا زمانہ 6 تا 7 ہزار سال قبل کا ہی نکلتا ہے (اس لنک پر آپ یہ تفصیلات پڑھ سکتے ہیں)۔
- لیکن آج کے دور کے مسلم علماء نے اس 6 تا 7 ہزار سال والے موقف کا انکار کر دیا، اور اب ان کا بیانیہ ہے کہ آدم لاکھوں سال پہلے آئے ۔ مگر کیوں انہوں نے پرانا مؤقف بدلا؟ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ جدید سائنس نے بہت سارے ناقابل تردید ثبوت اکھٹے کر لیے کہ جن کے مطابق انسان کا وجود 6 یا 7 ہزار سال سے کہیں پرانا ہے۔ مثلا یہ کہ اب تک ماڈرن انسان کے 3 لاکھ پرانے فاسلز مل چکے ہیں، جن کے بعد 6 یا 7 ہزار سال پہلے آدم کی مذہبی کہانی ٹہر ہی نہیں سکتی ہے۔
مگر مذہبی طبقات کے لیے مسئلہ یہ ہوا کہ جدید سائنس نے نہ صرف یہ کہ 3 لاکھ پرانے انسانی فاسلز دریافت کیے، بلکہ اس نے وہ دریافتیں بھی کر لیں کہ جن کی روشنی میں آدم کی اسلامی کہانی اور سائنس میں ایسا خوفناک تصادم ہوتا ہے کہ جس کی کوئی معقول مذہبی تاویل ممکن ہی نہیں۔
1۔ اہل مذہب کے لیے پہلا سوال: "پتھر کا دور" 2 لاکھ 90 ہزار سال تک کیوں جاری رہا؟
جدید سائنس نے دریافت کیا کہ:
- ماڈرن انسان اس دنیا میں 3 لاکھ سال پہلے وجود میں آیا۔
- مگر پھر وہ اگلے 2 لاکھ اور 90 ہزار سال تک صرف "پتھر کے دور" میں جانوروں کی طرح زندگی گذارتا رہا۔
- اور پھر صرف پچھلے 10 ہزار سال سے ہی وہ مہذب ہوا اور پتھر کے دور سے باہر نکل پایا۔
پتھر کے دور کے متعلق مزید تفصیلات آپ یہاں پڑھ سکتے ہیں: www.ancient.eu/Stone_Age/
چنانچہ اب اگر ہم اسلامی کہانی کو مانتے ہیں کہ "آدم دراصل اس دنیا میں پہلے انسان تھے"، تو پھر ایک انتہائی سیدھا سا منطقی سوال پیدا ہوتا ہے:
اگر پہلے انسان کو براہِ راست اللہ نے علم، زبان اور تہذیب سکھائی تھی، تو پھر اس کی اولاد اگلے 2 لاکھ 90 ہزار سال تک پتھر کے دور میں جانوروں کی طرح زندگی کیوں گذارتی رہی؟
پتھر کے دور کے اس پورے طویل عرصے میں انسان کے پاس صرف اور صرف پتھر اور لکڑی اور ہڈیوں کے اوزار تھے، اور وہ ایک عام شکاری اور خوراک جمع کرنے والے (Hunter-Gatherer) جانور کی طرح زندگی گزار رہا تھا۔
چنانچہ اگر آدم جیسا کوئی اللہ کی طرف سے براہ راست علم دیے جانے والا انسان 3 لاکھ سال پہلے موجود تھا، تو ٹیکنالوجی، زراعت اور تہذیب کا آغاز اسی وقت ہو جانا چاہیے تھا۔
تو سوال یہ ہے یہ 2 لاکھ 90 ہزار سال تک انسان کے پتھر کے دور میں رہنے کا طویل جمود (Stagnation) کس بات کا ثبوت ہے؟
- کیا یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان کا آغاز اور پھر ترقی یافتہ ہونا ایک سست اور قدرتی ارتقائی عمل تھا؟
- یا پھر یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ترقی یافتہ انسان (آدم) براہ راست یکدم ہی آسمان سے نازل ہو گیا؟
2. بولی (زبان) 3 لاکھ سال پرانی، تو تحریر صرف 5 ہزار سال پرانی کیوں؟
مسلم علماء قرآن کی اس آیت کو انسان کی برتری اور الٰہی علم کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں:
"اور اللہ نے آدم کو تمام نام سکھا دیے" (وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا)۔
اس اسلامی دعوے کے مطابق آدم جب زمین پر آئے، تو وہ پہلے دن سے ہی ایک مکمل ترقی یافتہ زبان (بولی) بول رہے تھے۔
سائنس بھی اس بات سے انکار نہیں کرتی کہ بولی جانے والی زبان بہت پرانی ہے۔ انسان کی بائیلوجی ثبوتوں (جیسے FOXP2 جین اور گلے کی Hyoid ہڈی) سے پتہ چلتا ہے کہ جدید انسان 2 سے 3 لاکھ سال سے بولنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 70 ہزار سال پہلے جب انسان افریقہ سے نکل کر پوری دنیا میں پھیلا، یا جب اس نے غاروں میں پیچیدہ مصوریاں بنائیں، تو اس کے پیچھے ایک ترقی یافتہ زبان کا ہونا لازمی تھا۔ پتھر کے دور کا انسان گونگا نہیں تھا؛ وہ باتیں کرتا تھا، کہانیاں سناتا تھا اور شکار کی منصوبہ بندی کرتا تھا۔
مگر یہاں پھر سے ایک بہت بڑا سوال کھڑا ہوتا ہے: تو پھر تحریر (Writing) صرف 5 ہزار سال پرانی کیوں ہے؟
تحریر کے 5 ہزار سال پہلے شروع ہونے کے متعلق تفصیلات یہاں دیکھیے: https://en.wikipedia.org/wiki/History_of_writing
اگر پہلے انسان کے پاس اللہ کی طرف سے دیا گیا علم اور شریعت تھی، تو اس کی اولاد نے پھر اگلے 2 لاکھ 95 ہزار سال تک اپنی تاریخ، اپنے علم، یا اپنے مذہب کو محفوظ کرنے کے لیے پتھر یا ہڈی یا چٹانوں یا کتبوں پر ایک لفظ بھی کیوں نہیں لکھا؟
یہ اس بات کا حتمی ثبوت ہے کہ زبان آسمان سے نازل نہیں ہوئی تھی، بلکہ یہ انسانی دماغ کی ارتقائی ضرورت تھی جو بتدریج وجود میں آئی، اور لکھائی تب ایجاد ہوئی جب زرعی معاشرے کو اپنے حساب کتاب اور غلے کے ذخیرے کو ریکارڈ کرنے کی ضرورت پیش آئی۔
3۔ کھیتی باڑی اور گلہ بانی کا آغاز بھی فقط 10 ہزار سال پہلے ہوا
اور کھیتی باڑی کی آغاز بھی پہلی مرتبہ اس Neolithic Period میں جا کر ہوا جو کہ 10 ہزار سال پہلے برفانی عہد کے ختم ہو جانے کے بعد شروع ہوا (لنک)۔ مگر بائیبل اور قرآن دونوں کو اس کا علم نہیں، بلکہ دونوں دعویٰ کر رہے ہیں کہ آدم نے زمین پر آتے ہی کھیتی باڑی اور جانوروں کی گلہ بانی شروع کر دی۔
دیکھئے قرآن کی آیت 5:27 کی تفسیر از ابن کثیر (لنک) جہاں قربانی کے موقع پر ہابیل دنبہ پیش کر رہا ہے جبکہ قابیل کھیتی باڑی سے حاصل کردہ فصل کے دانے۔
مگر مسئلہ یہ ہے کہ 10 ہزار سال سے قبل نہ تو زراعت کا تصور تھا اور نہ ہی گلہ بانی کا (یعنی جانوروں کو پالنے کا)۔ انسان نے جب زراعت شروع کی تو وہ اپنی تاریخ میں پہلی بار ایک جگہ settle ہوا۔ اس کے بعد جا کر کہیں گلہ بانی شروع ہوئی۔
آج جو گائے، بھینس، بھیڑ، بکری ہم دیکھتے ہیں، آج سے 10 ہزار سال قبل ان کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ بلکہ اُس وقت صرف ان کے جنگلی آباؤ اجداد موجود تھے:
- گائے: اس کا جنگلی جد تھا Aurochs (آراکس)۔ یہ بہت بڑا، خطرناک جنگلی بیل تھا، جو یورپ اور ایشیا کے جنگلوں میں رہتا تھا۔ انسان نے اسے تقریباً ساڑھے 10 ہزار سال پہلے ترکی اور عراق کے علاقے میں پالتو بنانا شروع کیا۔
- بھیڑ بکری: بھیڑ کی جد Mouflon (موفلون) جنگلی بھیڑ تھی، جبکہ بکری کی جد Bezoar Ibex (جنگلی بکری) تھی۔ یہ تقریباً 11 ہزار سال پہلے زاگرس پہاڑوں (ایران/عراق) میں پہلی بار پالتو بنے۔ یہ دنیا کے سب سے پہلے پالتو جانور تھے، کتے کے بعد۔ (کتا تقریبا 14 ہزار سال قبل پالتو بنا)
- بھینس: بھینس سب سے آخر میں پالتو بنی۔ جنگلی بھینس تو موجود تھی، لیکن پالتو بھینس تقریباً 5 سے 6 ہزار سال پہلے انڈس ویلی (آپ کے علاقے) اور چین میں پالتو بنی۔
چنانچہ ان تمام پالتو جانوروں کا کوئی ایک فاسل بھی نہیں مل پایا ہے جو کہ اس 10 یا 11 ہزار سال سے پرانا ہو۔ اسی طرح، غاروں میں بنی آرٹ کی تصاویر چالیس تا پچاس ہزار سال پرانی ہیں۔ ان میں انسان اور بے تحاشہ جنگلی جانور دیکھے جا سکتے ہیں، مگر ان میں نہ کتا ہے، نہ گائے ہے، نہ بھیڑ بکریاں ہیں اور نہ ہی بھینسیں۔
زراعت سے پہلے کا انسان صرف شکاری ہوا کرتا تھا۔ جب اس نے 10 ہزار سال پہلے گندم اگانا شروع کی، تب اسے سمجھ آیا کہ اگر اناج کو ذخیرہ کیا جا سکتا ہے تو جانور کو بھی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔
چنانچہ اس نے جنگلی جانوروں کے بچوں کو پکڑ کر قید میں رکھنا شروع کیا، جو زیادہ ڈرتے نہیں تھے ان کو آپس میں ملایا، جو زیادہ دودھ دیتے تھے ان کو رکھا۔ ہزاروں سال کی اس سلیکشن سے آج کی موٹی، زیادہ دودھ دینے والی، سیدھی سادی گائے اور بھیڑ بنی۔
4۔ غاروں کی ہزاروں تصویروں میں نہ اللہ ہے، نہ مسجد، نہ اجتماعی عبادت
قدیم انسان نے دنیا بھر کی غاروں کی دیواروں پر ہزاروں تصویریں بنائیں۔ یہ تصویریں تقریباً 60 ہزار سال پہلے سے لے کر 5 ہزار سال پہلے تک مسلسل ملتی ہیں۔ ان میں انسانوں کی روزمرہ زندگی دکھائی دیتی ہے: شکار، جنگلی جانور، رقص، ہاتھوں کے نشانات، رسومات اور مختلف علامتی مناظر۔
مگر ایک بات انتہائی قابلِ توجہ ہے۔
ان ہزاروں تصویروں میں کہیں بھی انسان اللہ کی عبادت کرتا ہوا نظر نہیں آتا۔ نہ کوئی مسجد دکھائی دیتی ہے، نہ کعبہ، نہ نماز جیسی کوئی اجتماعی عبادت، اور نہ ہی ایسا کوئی منظر جسے واضح طور پر اسلامی توحید کی عبادت کہا جا سکے۔
یہاں اسلامی بیانیے سے ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔
اگر یہ مان لیا جائے کہ آدم لاکھوں سال پہلے زمین پر آئے تھے، اور قرآن کے مطابق وہ پہلے ہی دن سے اللہ کی عبادت کرنا جانتے تھے، جبکہ اسلامی روایت کے مطابق کعبہ بھی ابتدا ہی سے موجود تھا، تو پھر اتنے طویل عرصے کی انسانی تصویری روایت میں اس عبادت کا کوئی نشان کیوں نہیں ملتا؟
اگر ابتدائی انسان کے لیے اللہ کی عبادت زندگی کا مرکزی حصہ تھی، تو اس کے آثار غاروں کی تصویروں میں بھی نظر آنے چاہییں تھے، بالکل اسی طرح جیسے شکار، جانور اور دوسری اہم سرگرمیاں نظر آتی ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ قدیم انسان کسی بھی قسم کے مذہبی یا روحانی تصورات سے بالکل خالی تھا۔ آثارِ قدیمہ میں بعض رسومات، تدفین اور علامتی اشیاء کے شواہد ضرور ملتے ہیں۔ لیکن اب تک ملنے والی غاروں کی ہزاروں تصویروں میں اسلامی تصورِ عبادت، مسجد یا کعبہ کا کوئی واضح ثبوت موجود نہیں۔
چنانچہ سوال بدستور قائم رہتا ہے: اگر آدم سے ہی اسلام اور اللہ کی عبادت موجود تھی، تو اس کے آثار انسانی تاریخ کی ابتدائی تصویری روایت میں کیوں غائب ہیں؟
5۔ ابتدائی انسان "لباس" کے بغیر ننگا کیوں؟
اسلامی کہانی کا ایک اہم تصور یہ ہے کہ انسان ابتدا ہی سے ایک مکمل مہذب مخلوق تھا۔ قرآن لباس کو بھی انسانی تہذیب اور ستر پوشی کی ابتدائی نعمت کے طور پر پیش کرتا ہے:
"اے آدم کی اولاد! ہم نے تم پر لباس نازل کیا جو تمہارے قابلِ شرم حصوں کو ڈھانپے۔" (الاعراف: 26)
اسلامی روایات میں آدم اور حوا کے بارے میں یہ تصور بھی ملتا ہے کہ زمین پر پہنچتے ہی ان کی برہنگی ظاہر ہو گئی اور انہوں نے اپنے جسم ڈھانپنے کا اہتمام کیا۔ چنانچہ اسلامی کہانی میں لباس انسانی تاریخ کے بالکل ابتدائی مرحلے ہی سے موجود دکھائی دیتا ہے۔
لیکن آثارِ قدیمہ سے سامنے آنے والی تصویر اس کے مقابلے میں ایک تدریجی ارتقاء کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
یورپ اور ایشیا کی قدیم غاروں کی مصوری، جو دسیوں ہزار سال پرانی ہے، ہمیں ابتدائی انسان کی زندگی کے مناظر دکھاتی ہے۔ ان میں شکار، جنگلی جانور، انسانی ہاتھوں کے نشانات اور مختلف علامتی تصاویر شامل ہیں۔ لیکن لباس کی باقاعدہ نمائندگی تقریباً غائب ہے۔ جہاں انسانی شکلیں واضح ہیں، وہاں بھی انسان یا تو بالکل ہی ننگا ہے، یا پھر انتہائی سادہ حالت میں کھال پہنے ہوئے دکھائی دیتا ہے (سردی سے محفوظ رہنے کے لیے)۔
چنانچہ یہاں سوال یہ پیدا ہو جاتا ہے کہ اگر آدم لاکھوں سال پہلے مکمل تہذیب، لباس اور الٰہی ہدایت کے ساتھ زمین پر آئے تھے، تو پھر انسانی تاریخ کے ابتدائی تقریباً ڈھائی سے تین لاکھ سال میں باقاعدہ لباس کے آثار اتنے دیر سے کیوں ظاہر ہوتے ہیں؟ اور غاروں کی تصویری روایت میں انسان زیادہ تر برہنہ یا انتہائی سادہ حفاظتی لباس میں کیوں دکھائی دیتا ہے؟
6۔ دھاتوں کا ارتقاء اور ’وحی‘ کی تاخیر: تقریباً 3 لاکھ سال کا سوال
اب سوال یہ ہے کہ انسانوں نے "دھاتوں" کا استعمال آہستہ آہستہ ارتقا کے سفر میں سیکھا، یا پھر اللہ نے نبیوں کے ذریعے سکھایا؟
٭ انسانی فاسلز 3 لاکھ سال پرانے ہیں۔ مگر 10 ہزار سال قبل تک کا زمانہ مکمل طور پر Stone Age ہے۔ اس کا آغاز 25 لاکھ سال قبل ہوا اور پھر 10 ہزار سال قبل تک سارے ہتھیار اور اوزار صرف پتھروں (اور ہڈیوں) پر مشتمل ہیں۔
٭ کیا آپ کو علم ہے کہ انسانی تاریخ میں سب سے پہلے لوہے کا استعمال کب کیا گیا؟ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ لوہا بالکل نئی چیز ہے اور صرف 1500 سال قبل مسیح میں انسان اس قابل ہوا کہ لوہے کو بطور دھات حاصل کر سکے۔ (یعنی آج سے صرف 3500 (تین ہزار پانچ سو) سال قبل)۔ لنک۔
٭ لوہے سے قبل انسان نے تانبہ اور پیتل کو دریافت کر لیا تھا۔ لیکن انکا زمانہ بھی بہت پرانا نہیں اور آج سے صرف 9 ہزار سال قبل کا ہے (لنک)۔ تانبہ اور پیتل کو دھاتی شکل میں حاصل کرنا لوہے کی نسبت آسان ہے۔ اس کے لیے آگ کی ضرورت ہوتی ہے اور بھٹیوں کی۔ جبکہ لوہے کو حاصل کرنے کے لیے ذرا "ایڈوانسڈ" قسم کی بھٹیوں کی ضرورت ہوتی ہے اور اس سفر میں انسان کو تانبے کی دریافت کے بعد مزید ساڑھے 5 ہزار سال لگ گئے۔
یہ ٹائم لائن ثابت کرتی ہے کہ دھاتوں کا علم آسمان سے نازل نہیں ہوا، بلکہ یہ انسان کی اپنی ہزاروں سالہ محنت، غلطیوں، اور ارتقائی سفر کا نتیجہ ہے۔ پتھر سے تانبہ، اور تانبے سے لوہا۔ اور یہ سفر 2 لاکھ 95 ہزار سال پر محیط ہے، نہ کہ کسی وحی کے ذریعے ایک دم سے کسی نبی پر نازل ہوا۔
7۔ نوح کی کشتی: تختوں، میخوں اور بحری انجینئرنگ کا سوال
اسلامی روایت کے مطابق حضرت نوحؑ کا واقعہ انسانی تاریخ کے بہت ابتدائی دور کا ہے۔ صحیح احادیث میں آدم اور نوح کے درمیان صرف چند نسلوں کا ذکر ملتا ہے، اس لیے روایتی اسلامی ٹائم لائن میں نوح کا زمانہ انسانی تہذیب کے آغاز کے قریب آتا ہے۔
لیکن قرآن نوح کی کشتی کے بارے میں ایک ایسی تکنیکی تفصیل بیان کرتا ہے جو آثارِ قدیمہ اور بحری انجینئرنگ کی روشنی میں کئی بنیادی سوالات کھڑے کرتی ہے۔
سورۃ القمر (54:13) میں کشتی کو "ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ" کہا گیا ہے، یعنی تختوں اور دُسُر سے بنی ہوئی کشتی۔ قدیم مفسرین کی اکثریت نے دُسُر کا مطلب میخیں، کیلیں یا وہ چیزیں لیا ہے جن سے تختوں کو جوڑا جاتا ہے۔
یہاں پھر چند بنیادی سوال پیدا ہوتے ہیں۔
- **میخیں کہاں سے آئیں؟**جیسا کہ ہم ثابت کر چکے ہیں، لوہے کو پگھلا کر میخیں بنانے کی ٹیکنالوجی صرف 3500 سال پرانی ہے، جبکہ انسان 3 لاکھ سال پرانا۔ چنانچہ نوحؑ کا دور، جو کہ صحیح حدیث کے مطابق آدم کے دور سے بہت قریب ہے، (یعنی پتھر کا دور) تو اس میں نوح نے صرف پتھروں کی مدد سے ایسا عظیم الشان بحری جہاز کیسے بنا لیا؟ اسی طرح لکڑی کے تختے کاٹنے کے لیے دھاتوں کے اوزار کی موجودگی لازمی ہے۔ مگر لوہا تو صرف 3500 سال پرانا ہے، جبکہ تانبا اور پیتل بھی صرف 9 ہزار سال پرانے۔
- لکڑی کی حدود اور بحری انجینئرنگ: بحری انجینئرنگ کا ایک ناقابلِ تغییر اصول ہے جسے Hogging and Sagging کہا جاتا ہے۔ لکڑی کا بنا ہوا کوئی بھی جہاز، بغیر اندرونی دھاتی فریم (Metal Bracing) کے، تقریباً 100 میٹر (300 فٹ) سے لمبا نہیں ہو سکتا۔ سمندر کی لہریں جب دباؤ ڈالتی ہیں تو لکڑی مڑنے لگتی ہے اور اتنا بڑا جہاز (جس میں ہاتھی اور زرافے سمائیں) بیچ سے ٹوٹ کر ڈوب جائے گا۔ تاریخ کا سب سے بڑا لکڑی کا جہاز (Wyoming) ہے، اور اس کے Deck کی لمبائی صرف 103 میٹر لمبی تھی، اور وہ بھی صرف اس صورت میں کیونکہ اسے ٹوٹنے سے بچانے کے لیے اس میں سٹیل کا فریم ڈالنا پڑا تھا۔
- ٹیکنالوجی کا اچانک غائب ہو جانا: اگر نوحؑ نے واقعی لاکھوں سال پہلے ایک ایسا میگا شپ بنایا تھا جس میں ایڈوانس بحری انجینئرنگ اور دھات کے اوزار استعمال ہوئے، تو یہ علم ان کی آنے والی نسلوں کو منتقل ہونا چاہیے تھا۔ لیکن نوح کے بعد آنے والی ہزاروں سال کی تہذیبوں (جیسے ابتدائی مصری) نے سرکنڈوں کی کشتیاں بنائیں اور لکڑی کے شہتیروں کو رسّوں سے باندھا کیونکہ اس وقت میخیں ایجاد ہی نہیں ہوئی تھیں۔ نوح کی وہ "ایڈوانس ٹیکنالوجی" اچانک کہاں غائب ہو گئی؟
غاروں کی پینٹنگز میں کشتوں کی بھی تصاویر ہیں۔ مگر وہ صرف چھوٹی چھوٹی primitive کشتیاں ہیں، جبکہ 6 ہزار سال پہلے تک کسی بحری جہاز کا کوئی وجود نہیں (نہ غاروں کی پینٹنگز میں اور نہ ہی آثارِ قدیمہ میں)۔ اور جو ابتدائی بحری جہاز ملتے ہیں، وہ صرف اور صرف لکڑی کے بنے ہوئے ہیں جن میں کسی دھات کا کوئی استعمال نہیں، اور جہاں لکڑی کو رسوں کی مدد سے باندھ دیا گیا ہے، بجائے کسی دھاتی کیل وغیرہ سے جوڑنے کے۔
8۔ آدم کا 90 فٹ قد اور "اسلامی ارتقاء" کا مسئلہ
اسلامی روایت اور جدید سائنس کے درمیان ایک اور نمایاں تصادم انسان کی جسمانی ساخت کے بارے میں ہے۔ اسلام کی دو مستند ترین حدیثی کتابوں، صحیح بخاری (3336) اور صحیح مسلم (7092) میں روایت ہے کہ محمد نے فرمایا:
"اللہ نے آدم کو ساٹھ ہاتھ قد پر پیدا کیا، پھر اس کے بعد مخلوق کا قد مسلسل کم ہوتا گیا، یہاں تک کہ آج تک۔"
ساٹھ ہاتھ تقریباً 27 سے 30 میٹر (تقریباً 90 سے 100 فٹ) بنتے ہیں۔ اس روایت کے مطابق پہلے انسان کا قد موجودہ انسان سے کئی گنا زیادہ تھا، اور پوری انسانی تاریخ ایک مسلسل قد گھٹنے کے عمل سے گزری۔
یہ دعویٰ حیاتیات، فزکس اور آثارِ قدیمہ تینوں کے لیے ایک بنیادی سوال پیدا کرتا ہے۔
فزکس میں Square-Cube Law ایک بنیادی اصول ہے۔ جب کسی جاندار کی لمبائی کئی گنا بڑھتی ہے تو اس کا وزن اس کی لمبائی کے مکعب (Cube) کے تناسب سے بڑھتا ہے، جبکہ ہڈیوں کی مضبوطی صرف مربع (Square) کے تناسب سے بڑھتی ہے۔
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ تقریباً 30 میٹر قد والا انسان اپنے ہی وزن سے غیر معمولی حد تک بھاری ہو جائے گا۔ ایسی صورت میں:
- ہڈیوں پر پڑنے والا دباؤ کئی گنا بڑھ جائے گا۔
- ٹانگوں اور جوڑوں کی ساخت موجودہ انسانی جسم کے تناسب سے وزن برداشت نہیں کر سکے گی۔
- دل کو دماغ تک خون پہنچانے کے لیے کششِ ثقل کے خلاف غیر معمولی دباؤ پیدا کرنا پڑے گا۔
یعنی موجودہ انسانی حیاتیات کے اصولوں کے مطابق ایسا جسمانی ڈھانچہ انتہائی مشکل، بلکہ عملاً ناممکن نظر آتا ہے۔
گزشتہ ایک صدی میں جدید انسان اور اس کے قریبی آباؤ اجداد کے ہزاروں فوسلز دریافت ہو چکے ہیں، جن کی عمر چند ہزار سال سے لے کر تقریباً 3 لاکھ سال تک ہے۔
ان دریافتوں میں:
- جدید انسان (Homo sapiens) کا قد عمومی طور پر تقریباً 1.5 سے 1.9 میٹر کے درمیان ملتا ہے۔
- نیاینڈرتھل (Neanderthals) عموماً 1.6 سے 1.7 میٹر قد کے تھے، اگرچہ ان کی جسامت زیادہ مضبوط تھی۔
- اب تک ایسا کوئی قابلِ اعتماد انسانی فوسل دریافت نہیں ہوا جس سے معلوم ہو کہ انسان کبھی 20، 25 یا 30 میٹر قد کا تھا۔
اگر انسانی تاریخ واقعی 90 فٹ قد والے انسان سے شروع ہوئی ہوتی، تو ایسے دیو ہیکل ڈھانچوں کے فوسلز بھی ملنے چاہییں تھے۔
اسلامی روایات کے مطابق آدم کے بعد انسانوں کا قد مسلسل کم ہوتا گیا۔ اگر اس دعوے کو لفظی معنی میں لیا جائے، تو قدیم تاریخی ادوار کے انسان آج کے انسانوں سے نمایاں طور پر لمبے ہونے چاہییں تھے۔
لیکن آثارِ قدیمہ اس کی تائید نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر مصر کے فرعونوں کی محفوظ ممیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا قد موجودہ انسانوں کی حد ہی میں تھا۔ رعمسیس دوم — جسے بعض مسلم مورخین موسیٰ کے دور کے فرعون سے جوڑتے ہیں، اگرچہ یہ شناخت متفق علیہ نہیں — تقریباً 1.7 میٹر (5 فٹ 7 انچ) قد کا تھا۔
یعنی تاریخی دور کے انسانوں میں ایسا کوئی رجحان نظر نہیں آتا کہ وہ موجودہ انسانوں سے کئی گنا لمبے تھے۔
یہاں ایک واضح سوال سامنے آتا ہے:
اگر صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت کے مطابق انسان کا قد آدم سے لے کر آج تک مسلسل کم ہوتا آیا ہے، تو پھر فوسل ریکارڈ، قدیم ممیوں اور آثارِ قدیمہ میں اس مسلسل سکڑاؤ کا کوئی ثبوت کیوں نہیں ملتا؟
آثارِ قدیمہ اور حیاتیاتی شواہد مجموعی طور پر یہی دکھاتے ہیں کہ انسانی قد مختلف ادوار اور آبادیوں میں کچھ حد تک بدلتا رہا، لیکن کہیں بھی 90 فٹ قد والے ابتدائی انسان یا مسلسل قد گھٹنے کے عالمی رجحان کا ثبوت موجود نہیں۔
نتیجہ: آدم کی تاریخ کا دو طرفہ مسئلہ
سائنسی اور تاریخی شواہد نے آدم کی روایتی اسلامی کہانی کے سامنے ایک بنیادی مسئلہ کھڑا کر دیا ہے۔
اگر روایات اور قدیم مسلم علماء کے مطابق آدم کی آمد کو تقریباً 6 ہزار سال قبل مانا جائے، تو پھر تقریباً 3 لاکھ سال پرانے جدید انسان کے فوسلز، دسیوں ہزار سال پرانی غاروں کی مصوریاں، قدیم انسانی آبادیاں اور جینیاتی شواہد اس ٹائم لائن سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ایسی صورت میں آدم کو پہلا انسان ماننے کے لیے انسانی تاریخ کے وسیع سائنسی شواہد کو مسترد کرنا پڑے گا۔
لیکن اگر جدید مسلم اپالوجسٹس کے ساتھ آدم کی آمد کو لاکھوں سال پہلے منتقل کر دیا جائے، تو ایک نیا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔
پھر سوال یہ ہے کہ آدم اور ان کی ابتدائی نسلوں کے بارے میں بیان کی جانے والی زراعت، مویشی پالنے، لباس، دھات کاری اور نوح کی کشتی جیسی چیزیں اس قدر دیر سے کیوں ظاہر ہوتی ہیں؟ اگر آدم لاکھوں سال پہلے ایک مکمل علم رکھنے والے انسان کی حیثیت سے دنیا میں آئے تھے، تو انسانی تہذیب نے اگلے لاکھوں سال تک اتنی ابتدائی اور تدریجی شکل میں کیوں ترقی کی؟
یہاں اسلامی بیانیے کے سامنے بظاہر دو راستے رہ جاتے ہیں:
پہلا راستہ: آدم تقریباً 6 ہزار سال پہلے آئے۔ تو پھر جدید انسان کے لاکھوں سال پرانے فوسلز اور قدیم انسانی ثقافت کے بے شمار آثار اس دعوے سے متصادم ہو جاتے ہیں۔
دوسرا راستہ: آدم لاکھوں سال پہلے آئے۔ تو پھر آدم، نوح اور ابتدائی انسانوں سے منسوب تہذیب، زراعت، پالتو جانوروں، لباس، دھات کاری اور بحری جہاز سازی کے تصورات انسانی تاریخ کے معلوم archaeological timeline سے شدید تضاد پیدا کرتے ہیں۔
چنانچہ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ "آدم کب آئے؟"۔
اصل سوال یہ ہے:
اگر آدم واقعی پہلے انسان تھے اور انہیں ابتدا ہی سے الٰہی علم اور رہنمائی حاصل تھی، تو پھر انسانی تہذیب کی پوری مادی تاریخ لاکھوں سال تک اتنی تدریجی کیوں رہی؟
آثارِ قدیمہ ہمیں ایک ایسے انسان کی داستان سناتے ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ اپنے اوزار، زبان، فن، لباس، زراعت، جانوروں کی domestication، دھات کاری، تحریر اور تہذیب کو ترقی دیتا گیا۔
یہ تصویر ایک ایسے انسان سے بہت مختلف ہے جو پہلے ہی دن ایک مکمل علم اور مکمل تہذیب کے ساتھ دنیا میں اتارا گیا ہو۔
یہی وہ بنیادی تضاد ہے جسے آدم کی مذہبی کہانی اور جدید سائنسی و تاریخی شواہد کے درمیان نظر انداز کرنا مشکل ہے۔
......
Our website: